ممبئی،21؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) پال گھر کے قریب 3؍ افراد کو ہجومی تشدد میں مار دیئے جانے کے معاملے کو اب سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں ہورہی ہیں جن کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پولیس نے 100؍ سے زائد افراد کو گرفتارکیا ہےا ور کسی کو بخشا نہیں جائےگا۔ کانگریس نے اِن مشکل حالات میں بھی پال گھر کے معاملے پر فرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے جنرل سیکریٹری سچن ساونت نے بی جےپی کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ پال گھر میں ہجومی تشددکے الزام میں جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان میں اکثریت بی جےپی کارکنوں کی ہے۔
امیت شاہ سے اُدھو ٹھاکرے کی بات چیت: اُدھر وزیراعلیٰ اُدھو ٹھاکرے نے اس سلسلے میں امیت شاہ سے پیر کو ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتےہوئے کہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس معاملے کا کوئی فرقہ وارانہ رخ نہیں ہے۔ اُدھو نے امیت شاہ سے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے جو پال گھر معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ بی جےپی لیڈر پال گھر سانحہ کو حکومت کی ناکامی قراردیتے ہوئے الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ہندوؤں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وی ایچ پی نے ان اموات کیلئے بائیں محاذ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔ اُدھو ٹھاکرے نے بتایا کہ ’’ میں نے ان(امیت شاہ) سے اپیل کی ہے کہ معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینےوالوں کے خلاف کارروائی کریں۔‘‘اُدھو ٹھاکرے نےبتایا کہ یو پی کے وزیراعلیٰ نے بھی اس سلسلے میں معلومات مانگی تھی۔
معاملے کا کوئی فرقہ وارانہ رخ نہیں ہے: انل دیشمکھ: پال گھر سانحہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناکام کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے بھی کہا ہے کہ حملہ آور اور مرنے والے دونوں کا تعلق الگ الگ مذہب سے نہیں ہے۔ انہوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کے خلاف ایکشن کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں نے مہاراشٹر پولیس اور سائبر سیل سے کہا ہے کہ سماج یا سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانےوالوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔‘‘
جمعرات کی شام کو پال گھر میں کیا ہواتھا: یاد رہے کہ جمعرات کی شام کو ممبئی کے کاندیولی سے سورت ایک میت میں شرکت کیلئے جارہے 3؍ افراد کو پال گھر میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالاتھا۔ مارے گئے لوگوں میں 70؍ سالہ کلپ وُرش گیری اور 35؍ سالہ سشیل گیری سادھو سنت تھے جن کا تعلق گوساوی خانہ بدوش قبلے سے تھا۔ پال گھر میں اس وقت بچہ چوروں کی افواہ پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بھیڑ نے تینوں افراد کو بچہ چور سمجھ کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے مہارشٹر پولیس نے 110؍ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں پر کانگریس نے سخت تنقیدکی ہے۔